Thursday, 27 September 2012

Drop Down Menu

How to make a Drop Down Menu?

Drop down menu is very popular in Blogger, Wordpress and Static sites. Many professional peoples are  use this menu on his site. Drop down menu is look like beautiful and also an important role in Search Engine Optimization. I give you Code which is use in Drop Down Menu.

Step 1:

open your Dreamweaver and put this code in Body Section.

<ul id="mymenu">
            <li><a href="#">Home</a></li>
            <li><a href="#">Contact</a></li>
        <li>
        <a href="#">Ayaz</a>
        <ul id="local">
            <li><a href="#">Matric</a></li>
                <li><a href="#">F.sc</a></li>
                <li><a href="#">B.sc</a></li>
                <li><a href="#">M.B.B.S</a></li>
            </ul>
        </li>
            <li><a href="#">Gallery</a>
                    <ul id="local">
                    <li><a href="#">Photo</a></li>
                    <li><a href="#">Animal</a></li>
                    <li><a href="#">Vedio</a></li>
                    <li><a href="#">contact</a></li>
                    </ul>
            </li>
            <li><a href="#">Help</a></li>
    </ul>

Step 2:

Now this code put in Head Section

<style type="text/css">
#mymenu,
#mymenu ul {
    list-style: none;
}
#mymenu > li {
    float: left;
}
#mymenu li a {
    height: 20px;
    line-height: 10px;
    padding: 0 15px;
    text-decoration: none;
background-color:#903;
}

#mymenu ul {
    position: absolute;
    display: none;
}
#mymenu li:hover ul {
    display: block;
}
#mymenu > li > a {
    color: #fff;
    font-weight: bold;
}
#mymenu > li:hover > a {
    background: #CCC;
    color: #903;
}
#mymenu ul li a {
    color: #fff;
}
#mymenu ul li:hover a {
    background: #CCC;
color:#900;
}
#mymenu ul{ background-color:#903;}
#local li a {
    height: 20px;
margin-left:-39px;
    text-decoration: none;
background-color:#903;
}
</style>

I hope to you like this Drop Down Menu




Wednesday, 26 September 2012

Heart broken story

Sad story

The story is true in which a blind girl disloyalty with her innocent friend if know urdu then you read other wise SORRY
سوچتا ہوں کے آج میں آپ سے وہ کہ دوں جو دل کہ رہا ہے میں نے ایک ایسا درد ناک دل دیکھا ہے جس کے بارے میں 
جب سوچتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتیں ہیں-
یہ تب کی بات جب میں کالج جایا کرتا تھا- ایک دن کالج سے واپس آ رہا تھا کہ بس اسٹاپ پر کسی نے میری کمر پر سے لدا ہوا بیگ پکڑا میں جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خوبصورت اور معصوم نوجوان کالے چشمے پہنے میری طرف دیکھ کر 
بولا
 "بھائی صاحب مجھے بس میں بیٹھا دیں"
مجھے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نے اسکی بات ٹالتے ہووے کہا "بھئی آپ خود بیٹھ جائیں بس تو  سامنے کھڑی ہے " یہ کہ کر میں بس کی طرف روانہ ہوا کچھ دیر بعد جب میرا گھر چند منٹ کے فاصلے پر تھا میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور گیٹ کی جانب رخ کیا تو دیکھا وہی لڑکا سیٹ پر بیٹھا تھا میں نے اسے گھور  کر دیکھا یہ سوچ کر کہ کہیں وو میرا کوئی جاننے والا یا دوست تو نہیں- بلآ خر میں اسکے پاس گیا یہ پوچھنے کے لیے آپ بس میں بیٹھنے کے لئے مجھے کیوں کہ رہے تھے تو کہنے لگا 
"کیوں کوئی معذور انسان کسی دوسرے انسان سے مدد نہیں لے سکتا" 
میں مسکراتے ہووے بولا کیوں معذور آپ جیسے ہوتیں ہیں یہ سن کر اس نے اپنی چشمہ اتاری اور میری طرف دیکھا تو میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا میں نے دیکھا کے اسکی دونوں آنکھیں نکالی گئی ہیں مجھ سے اپنے آپکو سنبھالا نہیں جاسکتا تھا اور عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی میں اسکے پاس بیٹھ گیا اور اس سے معذرت کی ایسے میں ہم دونوں میں کافی گفتگو ہوئی دوران گفتگو مجھے ایک ہی بات اندر ہی اندر سے کھایےجارہی تھی کہ آخر اسکے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے کہ اسکی دونوں آنکھیں کسی نے یا خود نے نکالی ہیں-
بلآخر اپنے دل پھ ہاتھ رکھتے ہووے اس سے پوچھا کہ بھائی آپ کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے کہ آپ کی دونوں آنکھیں ہی نہیں ہیں
کہنے لگا بس سے اتریں پھر بات کرتیں ہیں میں اسکے ساتھ جانے کا ارادہ کیا جب اسکے گھر میں گیا تو دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا اس نے مجھے بیٹھنے کا کہا اور اپنی داستان شروع کردی جو کچھ یوں ہے
""میرا نام ا ہے میں نے الکٹرونک میں چٹھے سال کا طالب علم تھا کہ ایک دن کافی مطالعہ کے بعد بھر جانے کا سوچا اور پھر میں اپنی رہائش سے قریبی پارک کی طرف روانہ ہوا ابھی راستے مے ہی تھا کہ ایک لڑکی نے مجھے آواز دی کہا کہ مجھے روڈ کراس کرادو میں نے اسے روڈ کراس کرایا میں دیکھ کہ وہ    نابینا تھی لیکن بے حد خوبصورت تھی میں اس کہا کہ کیا مجھ سے دوستی کروگی تو اسنے ہاں میں جواب دیا اسکے بعد ہم میں بڑی گہری دوستی ہو گئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی- ایک دن آی اور روتے ہووےکہ روتے ہووے کہنے لگی کاش میں تمھیں دیکھ سکتی اسکی اتنی بات بہت تھی کہ مجھ دیکھا نہ گیا اور میں بھی اسکے ساتھ رو پڑا لیکن اسی وقت میں نے فیصلہ کیا یہ ضرور دیکھی گی میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس سے اسکے بارے میں بات کی- لیکن وہ نہ منا اسلئے کے میں ایک بڑا خطرناک کام کرنے   جا رہا تھا بھر حال کافی منت سماجت کے بعد وہ رضا مند ہوا اور ساتھ میں ایک بھاری رقم بطور فیس مانگی میں بہت خوش تھا میں نے اس لڑکی کو یہ بتایا جس کے بعد وہ چینی سے انتظار کرنے لگی جب وقت آیا تو میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا ڈاکٹر نے ہم دونوں الگ الگ کمروں میں لے گیا ایک نرس آی اور انجکشن لگا کر گئی کچھ دنوں وہ لڑکی دیکھنے قابل ھوگئی اسنے ڈاکٹر سے میرا پوچھا کہ وہ کہاں ہیں اسکو بلاؤ مجھے جب وہاں لے گے تو وو مجھے دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اب میں اندھا ہوں اور وو ایک نارمل لڑکی ہے میں اسکے پاس گیا اور اس سے طبیعت پوچھی اسکے میں نے اسی لمھیں پوچھا کہ اب شادی کب کرینگے تو اسکے الفاظ کچھ یوں تھے 
"کیا بک رہے ہو میں ایک اندھے سے شادی کروں تم میرے سر ایک دوست ہو بس اور نہ کبھی میں نے ایسا سوچا ہے کبھی سمجھے تم"
مجھے لمحہ شاید اور کوئی نہ جانے میں اس سے یہ کہ کر آ گیا "میری آنکھوں کا خیال رکھنا" ""